237

کشمیر میں مشکل مرحلے کو پار کرنا

میں ،ایک ایسے شخص کے طور پر جو 1991 سے مسئلہ کشمیر پر نظر رکھتا آیاہے ، میڈیا کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر حالیہ گفتگو پر حیرت زدہ تھا ، جو مجھے 1990 کی دہائی میں لے گئی ۔ حقائق جاننے کے لئے ، میں نے اس سال اکتوبر کے آخری حصے میں ایک ہفتہ مقبوضہ وادی کشمیر میں گزارا۔مقبوضہ وادی کشمیر میں اس قیام کے دوران ، میں نے سری نگر ، تہلگام ، کپواڑہ ، بارہ مولا، پٹن اور صاحب آباد کا دورہ کیا ۔اس دوران میں علاقے کے کمانڈروں کے ساتھ ساتھ کچھ سول لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہا۔ یہ تحریر اس دورے کے دوران مشاہدات اوران تاریخی اور معاشرتی پہلوؤں کے طویل مطالعے کی بنیاد پر لکھی گئی ہے ، جو مقبوضہ وادی کشمیر میں کارفرما رہے ہیں ۔جس میں “رئیل ازم “(حقیقت پسندی ) کے نقطہ نظر اور اس کی عملی اہمیت کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔
1990 کی دہائی کے مقابلے میں ایک بڑی تبدیلی یہ ہے کہ یہ تنازعہ اب حقیقت پسندانہ ہی نہیں رہا بلکہ نظریاتی بن گیا ہے ۔ اب مطالبات “آزادی یا اس کے متبادل کے ہی نہیں رہے بلکہ “نظام مصطفیٰ ﷺ یا نفاذ شریعت کے ہیں ۔ اب ایک نعرہ اکثر سننے میں آرہا ہے کہ “آزادی کا مطلب کیا : لاالہ الا اللہ محمدالرسول اللہ (آزادی کا مطلب ہے اللہ ایک ہے اور محمدﷺ ہی اس کے رسول ہیں)۔ اسلامی خلافت کے جھنڈوں کا منظر عام پہ آنا اس تبدیل کی ایک نشانی ہے ۔
دوسری بڑی چیز جو باربار دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہ ہے کہ تصادم اور احتجاج اب صرف مقبوضہ وادی کشمیر کے چار سے پانچ اضلاع تک محدود ہے جبکہ مقبوضہ وادی کشمیر کے باقی تمام حصے مکمل طور پر غیر متاثرہ ہیں ۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ، جب مقبوضہ وادی کشمیر میں مکمل طورپر بائیکاٹ دیکھنے میں آیا ، باقی ساری ریاست میں معمول کے مطابق ووٹ ڈال کر پر امن طور پر اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا گیا ۔
1990 کی دہائی کے برعکس ، پاکستان کی ہتھیار، گولہ بارود اور جنگجو بھیجنے کی صلاحیت ، ایل او سی پر باڑ ،جدید آلات اور فوجوں کی تین درجوں میں تعیناتی کی بدولت بہت زیادہ محدودہوئی ہے ۔ 1990 میں جب تشدد بھڑکا تھا تو مقبوضہ وادی کشمیر میں انڈین فوج کی تعیناتی نہ ہونے کے برابر تھی ، جبکہ آج مقبوضہ وادی کشمیر کو راشٹریہ رائفلز اور پیراملٹری فورسز کی مدد سے مکمل طور پر فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ 1990 کے برعکس ، عام کشمیر ی نہ صرف آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق کو قریب نہیں سمجھتا بلکہ اسے تقریبا ناممکن سمجھتا ہے۔
جبکہ مندرجہ بالاکچھ مثبت تبدیلیوںمیں سے بھی بعض منفی پہلو پر منتج ہیں ، یہ ماننا پڑے گا کہ مقامی آبادی کم وبیش مکمل طورپر بیزاری کاشکار ہے ۔ برہان وانی کی شہادت پر احتجاج کے بعد بڑی تعداد میں ہلاکتوں نے کشمیری نفسیات پر گہرا زخم لگایا ہے۔ البتہ اس واقعے کا اثر یہ ہوا ہے کہ جب ایک اور وانی ” منان “جو کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کررہا تھا اسی طرح کی ایک جھڑپ میں شہید ہوگیا تو مقبوضہ وادی کشمیرمیں ردعمل “خاموشی “تھا ۔یہ مصنف اس کے آبائی قصبے سے بغیر حفاظتی دستے کے گزراتھا۔جبکہ ہر “اِن کاؤنٹر ” کے بعد “بند” (مکمل ہڑتال )پہلے کی طرح معمول ہے ، پتھر بازی کافی کم ہوچکی ہے ۔ برہان وانی کے احتجاج میں مسلح اقدامات نے پھر سے مسلح افواج کا خوف پیدا کردیا ہے ۔ کہا جاسکتا ہے کہ صورت حال پر امن ہے لیکن تناؤ بہرحال موجود ہے ۔
حقیقت پسندانہ بات یہ ہے کہ مقبوضہ وادی کشمیر کے چار اضلاع میں خلفشار سے قومی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا ۔ انڈیا کی مسلح افواج اچھے ہتھیاروں سے لیس ہیں اور اس محدود چیلنج سے نمٹنے کی اہلیت رکھتی ہیں ۔ 11/9اور اسلامک اسٹیٹ (داعش) کی وحشت کے بعد عالمی ماحول میں تبدیلی کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا خلفشار خاص حمایت یا ہمدردی حاصل نہیں کرسکتا ۔ البتہ یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستان میں کشمیری حریت پسندوں کی حمایت ہمیشہ مضبوط رہتی ہے ۔ او آئی سی (اسلامی ممالک کی تنظیم) بھی وقفے وقفے سے کشمیریوں کی حمایت میں شور مچاتی ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ ابھی تک اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں موجود ہے جوکہ کشمیری حریت پسندوں کے لئے امید کی آخری کرن ہے ۔
بے نتیجہ ہونے کی بنا پر مسئلہ کشمیر کی” عالمگیر” اہمیت کو نظر انداز کرنا آسان ہے ۔ لیکن ایساکرنا غلطی ہوگا۔ایسی ہی صورت حال میزورام (انڈیا کے شمال مشرق میں قائم ریاست ) کی بغاوت میں تھی ، مرحوم لال ڈنگا(میزو نیشنل فرنٹ کے سابق چیف اور پھر میزورام کے وزیراعلیٰ) نے 1988 میں مصنف کو بتایا کہ چین کی طرف سے کھلی حمایت میں کمی اور مشرقی پاکستان کا سقوط ، دو عالمی واقعات تھے جنھوں نے میزو کے باشندوں کو آزادی کا مطالبہ مکمل طورپر ختم کرنے پر مجبور کیا ۔
اگرچہ ہمارے سفارت کار مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے کبھی نہیں تھکے لیکن سچ یہ ہے کہ یہ ہم یعنی انڈیا ہی تھا جو اس تنازعہ کو 48-1947 میں اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اقوام متحدہ جائیں اور پاکستان کی جارحیت کی شکایت واپس لیں ۔ یہ مقبوضہ وادی کشمیر کو انڈیا کا اندرونی مسئلہ بنانے کا وقت ہے ۔ جو کہ نہ صرف حقیقت ہے بلکہ قانون کے مطابق بھی ہے ۔ایسا کرنا،پاکستان سے ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کا تما م استحقاق چھین لے گا۔اس سے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ قربت کا موقع بھی ملے گا۔ اس فیصلے کے بعد ، ہمیں مقبوضہ کشمیر کامستقبل طے کرنے کے لئے کشمیر کے تمام فریقوں سے کھلی بات چیت ضرور کرنی چاہئے ۔ یہ بات صرف مقبوضہ کشمیر کے مستقبل بارے میں ہونی چاہئے نہ کہ مقبوضہ جموں اور وادی کشمیر کے مستقبل بارے میں ۔یہ مقبوضہ جموں اور وادی کشمیر کی لسانی تقسیم کے ڈربے سے نکل کرسوچنے کا وقت بھی ہے ۔ اس کے لئے اسکاٹ لینڈ کے فارمولے کو اپنا کر ، مقبوضہ جموں اور لداخ کو مقبوضہ وادی کشمیر سے “آزادی ” دی جاسکتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کو زیادہ سے زیادہ اقتصادی فوائد دینے سے کبھی فائدہ نہیں ہوا اور نہ ہی مستقبل میں اس کا فائدہ ہوگا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ٹی بی کے مریض کو کینسر ختم کرنے کی دوا دی جائے۔
اس کی تاریخی مثال موجود ہے ۔1967 میں ، مصر کے ناصر نے اسی طرح اقوام متحدہ سے کہا تھا کہ غزہ اور مصر –اسرائیل کی سرحد کو چھوڑ دے ۔ نتیجہ 6 روزہ جنگ میں مصری فوج کی تباہی تھا۔ البتہ انڈیا مصر نہیں ہے اور پاکستان یقینا اسرائیل نہیں ہے ۔
اندازے کے مطابق اس سے ، امور خارجہ کے متعلقہ بیوروکریسی کو مشکل پارکرنے میں درپیش سب سے بڑی رکاوٹ کم سے کم ہوجائے گی ۔لیکن بیورو کریسی کی ساکھ ہی ایسی نہیں ہے کہ وہ ڈربے سے نکل کر سوچے اور عمل کرے ۔ اس کے لئے اعلیٰ سطحی سیاسی سربراہ کو چاہئے کہ وہ قدم بڑھائے ۔ کیایہ ضروری ہے کہ ہم (باغی اورسابق بھارتی وزیراعظم) جواہر لعل نہرو کی غلطی کا خمیازہ بھگتتے رہیں گے جس کے بارے میں سردار پٹیل نے خبردار کردیا تھا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں