801

بریکنگ نیوز خادم رضوی کو کس افسر نے گرفتار کیا اور اب وہ کہاں ہیں؟ عدالت سے ایسی خبر آگئی کہ سب ہکا بکا رہ گئے

لاہور (نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے خلاف کیس میں درخواست گزار کو ترمیمی درخواست دائر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست واپس لیں ،متعلقہ پارٹی کو فریق بنائیں اور انگریزی کی غلطیاں ٹھیک کریں۔گزشتہ روز ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نےدرخواست پر سماعت کی۔درخواست سید ظفر حسین گیلانی کی جانب سے دائر کی گئی جس میں وزارت داخلہ، محکمہ داخلہ پنجاب اور آئی جی پنجاب کو فریق بنایا گیا ۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ خادم حسین رضوی کو غیر قانونی طور پرگرفتار کیا گیا، پولیس نے خادم حسین رضوی کے گھر کی چار دیواری کا تقدس پامال کیا، گرفتاری کے وقت گرفتاری کی وجوہات اور اریسٹ وارنٹ نہیں دکھائے گئے، خدشہ ہے کہ پولیس کی جانب سے خادم حسین رضوی پر ذہنی اور جسمانی تشدد کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا معزز عدالت سے استدعا ہے کہ خادم حسین رضوی کی بازیابی کا حکم دیا جائے اور نظر بندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے ۔عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو معلوم ہے کہ خادم حسین رضوی کو کس نے گرفتار کیا ہے، وہ کہاں ہیں ۔ جس پر وکیل نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں ، ان کی بازیابی کے لیے تو عدالت سے رجوع کیا ہے۔ جس پر عدالت نے کہا کہ پورے پاکستان کو پتہ ہے کہ وہ کہاں ہیں صرف آپ کو معلوم نہیں۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ خادم حسین رضوی اور دیگر کی نظر بندی کے لیے ڈی سی لاہور نے نوٹیفیکیشن جاری کیا، ہم خادم حسین رضوی کے اہل خانہ کو نظر بندی کے احکامات دینے کے پابند ہیں، وکیل کو نہیں۔درخواست ناقابل سماعت ہے، خارج کی جائے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا ک یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے، کیا آپ سنجیدہ ہیں، آپ کے پاس فائل نہیں، درخواست میں انگریزی کی بے شمار غلطیاں ہیں، اگر آپ اس معاملے کو سنجیدگی سے کرنا چاہتے ہیں تو درخواست واپس لیں اور دوبارہ دائر کریں، متعلقہ پارٹی کو فریق بنائیں اور انگریزی کی غلطیاں ٹھیک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں