764

14سو ارب کی بڑی رقم کو بھول جائیں۔۔ سستا ترین ڈیم ہم بنا کر دیں گے، پاکستان کی سب سے بڑی مشکل حل، ڈیم بنانے کیلئے کون میدان میں آگیا؟ شاندار پیشکش کردی


اسلام آباد (ویب ڈیسک آن لائن) ڈیم بنانے کے حوالے سے پاکستان کو شاندار پیشکش کردی گئی۔ ملک میں پانی کی قلت کو پورا کرنے کے لیے ڈیمز کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا جس کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈیمز فنڈ قائم کیا اور اسی ڈیم فنڈ کو بعد ازاں وزیراعظم چیف جسٹس ڈیم فنڈ کا

نام دے دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر کے لیے چودہ سو ارب کی لاگت آئے گی اور اتنا فنڈ اکٹھا کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ تاہم اب پاکستان انجینئیرنگ کونسل نے بھاشا ڈیم کی تعمیر 5 سو ارب روپے میں کرنے کی پیشکش کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان انجینئیرنگ کونسل پاکستان کے دو سو ارب روپے بچا کر دینے کے لیے تیار ہے۔ پالیسی سازی میں انجینئیرز شامل نہ ہونے کی وجہ سے گردشی قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ روز پاکستان انجینئیرنگ کونسل کے چئیرمین انجینئیر جاوید سلیم قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ابھی تک ملک میں 21 اور 22 گریڈ پر کوئی انجینئیر نہیں ہے۔ جب کہ ملک کی پالیسی 21 اور 22 گریڈ کے افسر بناتے ہیں۔ ملکی قانون کے مطابق اگر کوئی نان انجینئیر ہو اور انجینئیر کا کام کرتا ہے تو اسے 6 ماہ قید کی سزا ہوتی ہے جبکہ پاکستان کے بڑے منصوبوں کی انجینئیرنگ پالیسیاں نان انجینئیرز بنا رہے ہیں۔ دیا مر بھاشا کی تعمیر کو انجینئیرنگ کونسل ویلکم کرتی ہے لیکن اس میں انجینئیر کے کردار کو انجینئیر کو ہی دینا چاہئیے۔ اس حوالے سے ایک بات واضح ہے کہ چندے سے دیامر بھاشا ڈیم بننے میں بہت دیر ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ

دیا مر بھاشا ڈیم کو سکوک بانڈز کے ذریعے جلدی تعمیر کیا جا سکتا ہے جس سے بجلی کی لاگت تھرمل سے سستی ہو گی ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جتنے پروفیشل انجینئیرز کی جگہ نان پروفیشنل انجینئیرز ہیں ان کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ گریڈ 20 پر چالیس فیصد پوسٹس پروفیشل انجینئیرز کی بنتی ہیں، نان انجینئیرز کی تعیناتی کی وجہ سے سرکلر ڈیٹ 1.5 ٹریلین تک پہنچ گیا ہے۔ جاوید سلیم قریشی نے کہا کہ حکومت فوری طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عمل درآمد کروائے ، توانائی سمیت پانچ وزارتوں میں انجینئیرز کو شامل کیا جائے ، پاکستان انجینئیرنگ کونسل مقامی انجینئیرز کے لیے عالمی تربیت کا آغاز کر رہا ہے۔ بھاشا ڈیم پاکستان کی لائف لائن ہے پاکستان انجینئیرنگ کونسل 5 سو ارب میں بھاشا ڈیم بنانے کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو پیشکش کرتے ہیں کہ ہم دو سو ارب روپے بچا کر دینے کے لیے تیار ہیں، پاور پلانٹس بنانے کے لیے لوگ تیار بیٹھے ہیں۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی بنانی چاہئیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کے شئیرز بنا کر فروخت کیے جائیں ۔ بھاشا ڈیم کی عمر 50 سال ہے ، پہلے دس سال میں شئیر ہولڈرز کو منافع دیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں